ناول 'تحہ آب" کی اگلی کڈی،/مصننف ڈاکٹر رنجن زیدیhttps://samagravicharmanch2017.blogspot.com/2023/12/blog-post.html
در. رنجن زیدی کا نیا (اردو ) ناول ؛ ''تحہ آب'
-صبح کا وقت ہے- ایم جی روڈ پرواقعہ اسکول جانے والے بچچوں کی گہما گہمی روزمرّہ سے کہیں زیادہ ہے –زیادہ تر
بچچوں کے والدین انھیں اسکول تک چھوڑنےآتے ہیں- ہنومان سنگھ راجپوت اپنی اہلیہ کے ساتھ اپنی بیٹی آشیرواد عرف آشی کی انگلی پکڑے پہلی بار اسکول کے لئے گھر سے نکلا ہے- کسی انگلش میڈیم اسکول کی عمارت کا گیٹ پارکر وہ اپنی بیٹی کوآسمان چھولینے والی تعلیم کی سیڑھی کا پہلا پایدان دکھایگا جس پر پانون رکھتے ہی وہ ایک عظیم عورت کی شکل -میں تبدیل ہو جاےگی-
کیسا عجیب سا احساس ہے اسکے دل میں، اسکی روح میں-اسے لگا جیسے وہ علم کے حصول کے لئے اس عظیم شور کے سمندر میں کودکر دکھایگا- عاشی کو لیکروہ ایک بلند آوازبن کراپنی بیٹی کی پہچان کے ساتھ آگے بڑھےگا، وہ آج اپنے ماضی سے باہر نکل آنا چاہتا ہے -بھلے ہی وہ شور کے اس سمندر میں پوری طرح سے غرق ہی کیوں نہ ہو جائے- اسکا قد آج اس جذباتی سمندر میں سچمچ ڈوب جانے کے لئےبیچیں ہے-
اسکا ہر ہرلفظ رفتہ رفتہ کا نپنے لگتا ہے-
عاشی کی انگلی اسکی بیوی پکڑے ہوے تھی لیکن وہ خود ایک انجانے سفر پر چلتے ہوے لڈکھڈا رہا تھا-
اسکی بیوی آج بھی اسکی طاقت ہے- وہ اپنے شوھرکی پکڈ کو ڈھیل نہیں دینا چاہتی ہے-اسی لئے کاجل راجپوت اسکی کلائی پکڑکر اگے بڑھ رہی ہے- لیکن یہ کیسا اتفاق ہے کی اپنی بیٹی کے تصوّر میں وہ خود ہخود اسکے ساتھ آسمان چھو لینے کے کھلی آنکھوں میں ایک زندہ خواب دیکھ نے لگی ہے-
"میڈم پوچہینگیں کہ صبح اٹھکر کیا کرتی ہو؟ تو آپ کیاجواب دینگیں؟" ہنومان سنگھ راجپوت کا گلہ خوشک ہوا جا رہا تھا -کاجل اسے پانی کی بوتل دے دیتی ہے-
"کتنی بار پوچھ چکےہیں پاپا ؟"عاشی کچھ ناراضگی کا اظہارکرتی ہے-لیکن وہ سوال کا جواب ضرور دیتی ہے-
"کہونگی 'اشور الله تیرو نام، سبکو سنمتی دے بھگوان-پھر میں کلنڈرسے جھانکتے بھگوان جی کو نمستے کر فریش ہونے چلی جاونگی - فریش ہوکر جب باہرآؤنگی تب مممی-پاپا کی پوچچی لونگی-پھر....؟"
"بس بیٹا، بس! " ہنومان سنگہہ راجپوت نے خود کو سنبھالتے ہوے کہا،" اپن کو پتا ہے کہ اپن کی پرنس پرنسپل صاحبہ کوشنٹی فلیٹ کر دیگی-"
"عاشی کے پاپا جی..." کاجل سنگھ نے غرراتے ہوے کہا،" اپنی ٹپوری لینگویج پرنسپل جی کے سامنے مت بولنے لگ جانا- عاشی کے پاپا ہو، پولس کے محکمہ میں ہو، کچھ تو شرم کرو- یہ حملوگوں کے زمانے کا ریلوے اسٹیشن کے پلیٹفارم پر لگنے والا آنگن بادٹی کا اوپن اسکول نہیں ہے- .....
"اوتترے کی، ایسا سوچائچ نہیں- سڈک کا آدمی تھا میں-عادت ہے نہ اپن کی- اب ہم انگریجی بولیگا- ٹیٹ پھورٹائٹ- نہی، اپن پولیس میں ہے-میں چپ رہیگا-ایک دن سدھار لیگا میں بھی خود کو- دیکھنا بس، اپن عاشی کا ایڈمیشن ہونے کو مانگتا-"
" ہوییگا کیوں نہیں- "ٹھٹھاکرہنستے ہوے کاجل نے اپنے شوہر سےمذاق میں کہا، "نہیں ہوےنگا تو میں بھی ٹپوری میں بات کرنے لیگیگی- پر میرے پاس بڑے صاحب کا لیٹر ہے-اور آپ پولیس میں سپاہی ہیں، کوئی ایسے ویسے تھوڈے ہی ہیں- -ہوگا، ضرور ہوگا-'
"وہ دیکھ ڈھبری..سوری، میں اس نام سے اسکول میں نہیں پکریگا... دیکھ ادھر دیکھ! .' سامنے ٹیلے پرجو لال رنگ کی بلڈنگ ہے، ویویچ!" ہنومان سنگھ راجپوت کی بائک پر پکڈ مضبوط ہو گی اور بایک چڑھائی چڑھنے لگیگی -وہ دیکھ!
( پڑھیں ناول 'تحہ آب" کی اگلی کڈی، اگلے ایپیسوڈ میں/مصننیف ڈاکٹر رنجن زیدی)
टिप्पणियाँ
एक टिप्पणी भेजें